February 12, 2020 at 10:03 pm

تحریر عارف سحاب

میرے محلے میں میرے ہی جیسے سفید پوش بستےہیں۔

اس درجہ حیات کے لوگوں کا فکری زاویہ عموما فکر معاش کے گرد ہی رہتا ہے اور اس طبقے کے موضوعات میں کچھ باتیں مشترک و مستقل ہوتی ہیں۔

مہنگائی ، بجٹ ،کرایہ ، بلات ،گھر کا خرچ، صحت، تعلیم ،قرض ،شادی بیاہ کی تیاریاں اور اخراجات ،حادثات یا اموات کے وجہ سے ہلنے والی گھر کی جذباتی و معاشی بنیادیں ،پیسے کی بچت کمیٹیاں ،سستے اور قسط وار پلاٹس اور ان پر ایک چھوٹے مکان کی تعمیر کا سپنا۔

ان میں سے نوے فیصد مسائل وہ ہیں کہ جو کبھی حل نہیں ہوتے اور نہ ہی ہوں گے۔

البتہ ان کی شدت میں کمی بیشی آسکتی ہے ۔ مجموعی طور پر ان تمام موضوعات کو عام آدمی کا درد سر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا اور عموما اس بوجھ کے لئے گھر کے سربراہ کا کاندھا استعمال ہوتا ہے۔

اس بوجھ کے علاوہ بھی کوئی اور روگ انسان پال لے تو وہ اس کی امتیازی یا اختیاری خصوصیت ہوگی۔

ان میں عموما محبت کا روگ ،دوسری یا تیسری شادی ،نشہ و قمار بازی جیسے معامالات سر فہرست ہیں جو کہ مڈل کلاس شخص کے لئے مصیبت جبکہ ایلیٹ کلاس کے لئے فیشن ہے۔

فکر معاش میں دبےہوئے اس طبقے میں ایسے افراد نہ ہونے کے برابر ہی ہیں کہ جو اس کے باوجود کسی بھی قسم کی پریشانی کو ذہن میں گھر کرنے نہیں دیتے اور نہ ہی انہیں دوسروں کی طرح اپنی تقدیر سے کوئی شکوہ ہوتا ہے۔

مگر میں نے ایک ایسا انسان بھی دیکھا ہے جس کی زندگی کا ایک ایک پہلو قابل رشک ہے ۔

عبدل علی ) اصل نام ظاہر نہیں کیا جاسکتا( پیشے کے لحاظ سے ایک لوڈر ہے اور اس کا کام مرکزی بازار میں ریڑھی چلانا ہے۔

بڑی گاڑیوں کا مال گودام سے پرچون کی دکانوں تک پہنچانے والا یہ دیہاڑی دار مزدور گزشتہ پچیس سال سے کرائے کے مکان میں رہتا ہے اور تین بچوں کا باپ ہے۔

پانچ افراد پر مشتمل گھرانے کے اس واحد کفیل کا معمول یہ ہے کہ وہ فجر سے مغرب تک تسلسل سے بوجھ ڈھوتا ہے اور اپنے کام میں اس قدر مستغرق رہتا ہے کہ اس کے پاس ان تمام موضوعات پر بات کرنے کا وقت ہی نہیں ہوتا جن کا تذکرہ ہم اپنی تحریر کے ابتدائی حصے میں کر چکے ہیں ۔

عبدل کی یومیہ آدھی کمائی تو اس کے گھر کے چولہے کی نذر ہوجاتی ہے جبکہ باقی بچنے والی معمولی سی رقم میں وہ بچوں کی تعلیم ،مکان کرایہ ،بلات اور دیگر متفرق ضروریات سنبھالتا ہے ۔

میں نے اسے جولائی کی گرمیوں میں پسینے میں شرابور جبکہ جنوری اور فروری کی یخ بستہ سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے ،لوہے کے پائپس ڈھوتے ہوئے دیکھا ہے ۔

مزے کی بات یہ ہے کہ ان دونوں حالات میں کبھی اس کے ماتھے پر شکن دیکھی نہ ہی لبوں پر تقدیر سے کوئی شکوہ سنا۔

مجھ سے جب بھی ملتا ہے تو صافی ساب )صحافی صاحب(کہہ کر ایک جاندار ہنسی کے ساتھ چائے آفر کرتا ہے اور جان تب تک نہیں چھوڑتا جب تک چائے پینے کی حامی نہ بھری جائے ۔

ہوٹل والے کو پیسے ایڈوانس دے کر رکھتا ہے تاکہ بعد میں تکلفات میں وقت ضائع نہ ہو۔

میں جب بھی پوچھتا ہوں کہ عبدل کیسی گزر رہی ہے تو نہایت سنجیدگی سے کہتا ہے صافی ساب خدا کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔

ہاتھ پیر سلامت ہیں ، تین وقت کی روٹی ملتی ہے ، بدن پر لباس ہے ۔

کیا یہی کم ہے کہ کچھ لوگ ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہیں اور ہمیں خدا نے اتنا تو دیا ہے کہ ہم راہ چلتے فقیر کو پانچ روپے دے سکتے ہیں۔
میں جب بھی پوچھتا ہوں کہ عبدل اپنا گھر بنانے کا سوچا ہے ؟ تو جواب دیتا ہے کہ صافی بھائی ، دنیا میں کون مستقل رہا ہے جو ہم یہاں گھر بنائیں۔

بنے تو بنے ورنہ ٹھیک ہے اس میں کیا پریشانی ۔ جب اس کے سامنے اشرافیہ کی عیاشیوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو آگے سے جواب دیتا ہے کہ بھائی دولت کی لالچ انسان کو جیل لے جاتی ہے۔

میں تو نواز شریف اور زرداری بننے سے زیادہ اس بات پر خوش ہوں کہ میں عبدل ہوں ۔مجھ سے نیب حساب کرئے تو الٹا نیب کی طرف میرا پیسہ نکل آئے گا کیونکہ ان کے دفتر کا سامان لے جانے کی مزدوری پانچ سو روپے فکس ہوئی تھی لیکن بعد میں ساڑھے تین سو دیئے۔

یہ کہہ کر وہ ہنس دیتا ہے میں بھی ہنستا ہوں ۔ مگر ایک فرق ہے ۔ اس کی ہنسی خالص ہے جبکہ میرا صرف چہرہ مسکراتا ہوا نظر آتا ہے۔

اندر سے مجھے اس پر رشک آتا ہے کیونکہ اس سے کم و بیش دس گنا زیادہ کما کر بھی میں پورا مہینہ پریشان حال ہی رہتا ہوں۔

لیکن ایک عبدل ہے کہ بس آج بلکہ ابھی میں جیتا ہے کل کو خدا پر چھوڑتا ہے لیکن محنت کے بھروسے کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ۔

دل ضرور رکھتا ہے مگر اس میں خواہشات کو ان لمیٹڈ ہونے نہیں دیتا ۔

سچ تو یہ ہے کہ عبدل کو وہ تمام مسائل درپیش ہیں جو مجھ سمیت ہر متوسط طبقے کے انسان کو ہیں۔

ہمارے پاس بھی وہ تمام وسائل ہیں جن کی بنیاد پر عبدل شکر پر شکر ادا کرتا ہے بلکہ کچھ وسائل اس سے زیادہ بھی ہیں ۔

مگر اس کے باوجود جو فرق درمیان میں ہے وہ “سوچ “کا ہے ۔ عبدل اپنے حالات کو خیالات پر حاوی ہونے نہیں دیتا اور نہ ہی اس کے اندر اس طرح کی کوئی سوچ پلتی ہے ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ خوش رہتا ہے جبکہ ہم وہ ہیں کہ جن کے حالات بہتر ہوں بھی تو خیالات بہتر نہیں یہی وجہ ہے کہ ہمیں آدھا گلاس ہمیشہ خالی نظر آتا ہے ۔

میری نظر میں عبدل دنیا کا امیر ترین شخص ہے کیونکہ اس کو اپنے غریب ہونےکی ٹینشن نہیں ہے ۔

اسی بات پر گفتگو تمام کروں گا کہ خیالات بدلنے سے حالات خود بخود بدل سکتے ہیں۔

لہذا ہمیں حالات بدلنے کے لئے پہلے خیالات کو اس نہج پر لانا ہوگا کہ کچھ مثبت سوچ سکیں۔

Facebook Comments