February 10, 2020 at 5:21 pm

بابر بن عطاء

ملک میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز کا معاملہ سینیٹ میں بھی جا پہنچا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو نے کہا ہے کہ حکومت نے خیبر پختونخوا سے پولیو ختم کرنے کے دعوے کیے تھے لیکن اس کے برعکس آئے روز نئے نئے کیسز سامنے آرہے ہیں۔

ملک میں پولیو کے کیسز پر سخت تشویش ظہار کرتے ہوئے سینیٹر سسی پلیجو نے کہا پاکستان میں پولیو کیسز میں آے روز اضافہ ہو رہا ہے۔

سسی پلیجو نے سوال کیا کہ پولیو کے ساتھ ساتھ دیگر بیماریوں نے بھی پاکستان کا رخ کر لیا تو کیا پھر کیا ہوگا؟
افسوس وفاقی حکومت ان معاملات پر جو کرسکتی تھی وہ نہیں کیا گیا۔

پیپلز پارٹی ہی کی سینیٹر قرات العین مری بھی گویا ہوئیں کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا
منیجر بابر بن عطا کو پولیو پر ایڈوائزر بنایا گیا۔

ان کی بری کارکردگی پر وزارت نے وزیراعظم کو خط لکھ کر بابر بن عطا کو ہٹانے کی درخواست کی۔

انہوں نے پھر سوال کیا کہ بابر بن عطا کو پولیو وائرس روکنے میں ناکامی پر جیل کیوں نہیں بھیجا گیا؟ سینیٹر قرات العین مری نے الزام لگایا کہ بابر بن عطاء پولیو ٹائپ 2 وائرس ملک میں واپس لائے۔

ملک سے ختم ہونے والے وائرس کو واپس لانے والوں کے خلاف حکومت نے کیا ایکشن لیا؟
کیا صرف ہیش ٹیگ سے پاکستان پولیو فری ملک بن گیا؟

Facebook Comments