February 7, 2020 at 12:32 pm

خیبرپختونخوا کی سرکاری جامعات

خیبرپختونخوا کی سرکاری جامعات معاشی بحران کا شکار کیوں ہوئیں؟

دستویزات کے مطابق جامعات میں سال 2014 سے 2016 تک 4کروڑ سے ذائد کی کرپشن اور مالی بے قاعدگی سامنے آگئی.

باچا خان یونیورسٹی چارسدہ نے 407 کنال سرکاری اراضی لیز پر دی، 18 لاکھ 90ہزار رقم کی وصولی بھول گئی۔

پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر کو اعلی تعلیم کے لیے 1 کروڑ 13 لاکھ روپے ادا کئے گئے، ریکوری نہ ہوئی۔

صوابی یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے 13 لاکھ 89 ہزار کی رقم مس الاونس کی مد میں اضافی وصول کی۔


کرپشن کی کہانی میں ہری پور یونیورسٹی سب سے اگے ہے۔ یونیورسٹی کے اندر ہی رہائش پذیر ملازمین میں کنوئنس الاونس کی مد میں 21 لاکھ 74 ہزاربانٹ دیئے گئے.

ایک سال سے چھٹیوں کے باوجود ڈپٹی پروسٹ نے تنخواہ کی مد میں13 لاکھ 52 ہزار کی رقم وصول کی۔

سرکاری گھر رکھنے کے باوجود ملازمین کو رہائش کی مد 20 لاکھ 21 ہزار ادا کیے گئے۔
یونیورسٹی کے لیے مہنگے داموں آئی ٹی سامان خرید کر سرکاری خزانے کو 25 لاکھ 63 کا ٹیکہ لگایا گیا۔

حیران کن طور پر کسی بھی یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہ ہوئی۔

Facebook Comments