March 19, 2020 at 9:38 am

ناسا کےسائنسدانوں کے مطابق چار کلومیٹر کے کے برابر سائز کا ایک شہاب ثاقب زمین کے پاس سے گزرے گا جس کے ٹکرانے سے تباہی پھیل سکتی ہے۔
اس نئی تحقیق نے ایک سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا دنیا 2020 میں ختم ہو جائے گی۔
کرہ ارض پر بسنے والوں کیلئے سائنسدان ہر روز کسی نئے ایک نئی پریشان کا سامان کئے رکھتے ہیں۔
کبھی ایٹم بم اور کبھی وائرس، اللہ کے احکام کے تحت چلنےوالا منظم نظام شمسی بھی ا ن سائنسدانوں کی ریشہ دوانیوں سے پاک نہیں ، آئے روز کسی نئے سیار ے کے زمین سے ٹکرانے کی گھنٹیاں بجا دیتے ہیں ہیں۔
اب ایک نئی تحقیق میں ناسا کے سائنسدانوں نے چار کلو میٹر بڑے حجم کے پتھرکو زمین کی طرف بڑھتے دیکھا ہے،سائنسدانوں کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ سے نصف سائز کا یہ پتھر زمین کی طرف ایک خاص رفتار سے بڑھ رہا ہے۔
امکان ہے اپریل میں زمین سے ٹکرا جائے گا،ان کا مزید بتانا ہے زمین سے چھتیس کروڑ کلومیٹر زمین سے دور یہ پتھر انتیس اپریل تک زمین کے پاس سے گزرے گا۔
اپنے حجم کی وجہ سے زمین سے ٹکرانے کا خطرہ ہے۔
سائنسدان کہتے ہیں ایک کلومیٹر یا اس سے بڑا شہاب ثاقب زمین کیلئے خطرنا ک ہوسکتا ہے، ایسے پتھر کے ٹکرانے سے زمین پر بسنے والوں کی بڑی تعداد جاں بحق ہو سکتی ہے لیکن ختم نہیں ہوسکتی۔
اسی طرح سائنسدانوں کا خیال ہے تقریبا دس کلومیٹر برا سیارہ پینسٹھ ملین سال پہلے زمین سے ٹکرایا ہوگا جس کی وجہ سے ڈائینو سارز کی نسل ختم ہو گئی تھی۔
انتیس اپریل کو یہ خلائی چٹان ایک سو انچاس کروڑ کلو میٹر کے فاصلے سے گزرے گی اور خوشخبری یہ ہے کہ ماہرین فلکیات توقع کرتے ہیں یہ چٹان یا کوئی دوسر ا شہابی پتھر آئندہ مہینے میں یا مستقبل قریب میں زمین سے ٹکرا ئے گا۔

Facebook Comments