March 23, 2020 at 5:45 pm

پاکستان میں اس وقت سب کی توجہ کا مرکز کورونا سے جڑی خبریں ہیں۔
لیکن میڈیا اس کے چند ہی پہلو یعنی اعداد وشمار اور حفاظتی تدابیر پر بات کر رہاہے۔
دنیا اس کے تدارک کے لیے کیا کر رہی ہے اس پر شائد ہماری توجہ زیادہ نہیں۔
خوش آئند ہے کہ متاثرین کی کم تعداد کے لیے یہ مرض مہلک ثابت ہو رہا ہے۔
چین کے اعداد و شمار تو کافی حوصلہ افزا ہیں۔ اسی ہزار سے زائد صرف ووہان کیسز میں ستر ہزار سے زائد صحتیاب ہو کر گھر جا چکے ہیں۔
گویا ان کا علاج ہو چکا اب وہی ادویات ایران پہنچائی جا رہی ہیں۔
امریکا میں ملیریا کی گولیوں سے کوشش کی جا رہی ہے۔ تاثر یہ ہے کہ یہ لا علاج ہے۔ شائد ہم ویکسین اور علاج کو ملا کر کنفیوژن کا شکار ہو رہے ہیں۔
ویکسین میں ابھی وقت ہے لیکن علاج کیا جا رہا ہے اور لوگ صحت یاب بھی ہو رہے ہیں۔
دنیا میں جہاں بھی لوگ صحت یاب ہورہے ہیں وہ ضرور دیکھانا چاہیے، چھوٹے بڑے سب ہی زہنی کھچاؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔
میڈیا کو چایے کہ وہ حکومتی اداروں کو ممکنہ ادویات کی فراہمی کے لیے متوجہ کرے تو مناسب ہو گا۔
کیونکہ اگر ممکنہ ادویات کی تصدیق باظابطہ ہو گئی تو پھر اس کی شارٹیج کا مسئلہ کھڑا کردیا جائےگا۔

تجویز برائے کوریج
اس وقت سب کی توجہ کا مرکز کورونا ہے۔ اس کے چند ہی پہلو یعنی اعداد وشمار اور حفاظتی تدابیر پر بات کی جارہی ہے۔
دنیا اس کے تدارک کے لیے کیا کر رہی ہے اس پر شائد ہماری توجہ زیادہ نہیں۔ خوش آئند ہے کہ متاثرین کی کم تعداد کے لیے یہ مرض مہلک ثابت ہو رہا ہے۔ چین کے اعداد و شمار تو کافی حوصلہ افزا ہیں۔ اسی ہزار سے زائد صرف وہان کیسز میں ستر ہزار سے زائد صحتیاب ہو کر گھر جا چکے ہیں۔
گویا ان کا علاج ہو چکا اب وہی ادویات ایران پہنچائی جا رہی ہیں۔
امریکا میں ملیریا کی گولیوں سے کوشش کی جا رہی ہے۔ تاثر یہ ہے کہ یہ لا علاج ہے۔ شائد ہم ویکسین اور علاج کو ملا کر کنفیوژن کا شکار ہو رہے ہیں۔ ویکسین میں ابھی وقت ہے لیکن علاج کیا جا رہا ہے اور لوگ صحتیاب ہو رہے ہیں۔
میری تجویز یہ ہے کہ اگر ہم حکومتی اداروں کو ممکنہ ادویات کی فراہمی کے لئیے متوجہ کر لیں تو مناسب ہو گا۔ کیونکہ اگر ممکنہ ادویات کی تصدیق باظابطہ ہو گئی تو پھر اس کی شارٹیج کا مسئلہ کھڑا کردیا جائےگا۔

Facebook Comments