March 25, 2020 at 4:40 pm

کورونا وائرس کے پیش نظر اقدامات سے متعلق فل بنچ نے تحریری حکم جاری کر دیا ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے تحریری حکم جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے وکیل کی درست معاونت نہ کرنے پر ناراضی کا اظہار بھی کیا۔
وفاقی حکومت کے وکیل نے بیان دیا کہ ملک میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
عدالت نے کہا ملک میں آئین کی کس آرٹیکل کے تحت ایمرجنسی لگائی گئی وفاقی حکومت کے وکیل بتانے میں ناکام رہے۔
سیکریٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ نے بیان دیا کہ کچھ لوگوں کو ایران کی سرحد سے پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت
دی گئی جس سے کورونا وائرس تیزی سے پھیلا۔
عدالت نے کہا پاکستان میں اب بارڈر کے راستے کتنے لوگ داخل ہونے والے ہیں وفاقی حکومت کے پاس کوئی ڈیٹا نہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے بیرون ملک سے آنے والے افراد کو کوئی ٹھیک طریقے سے ڈیل نہیں کیا گیا۔
وفاقی حکومت کو کورونا کی تشخیص ہو جانے والے افراد کو پراسس مکمل کیے بغیر صوبوں کے حوالے نہیں کرنا چاہیے تھا۔
قرنطینہ سنٹرز شہروں کے بالکل وسط میں بنائے گئے ہیں جو خطرناک ہے۔
آئی جی جیل خانہ جات نے بھی ایک قیدی میں کورونا ہونے کی تصدیق کی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ آئی جی جیل خانہ جات آئندہ سماعت پر انڈر ٹرائل ملزمان کی مکمل لسٹ فراہم کریں۔
جیل میں 60 سال سے زائد عمر کے کتنے قیدی ہیں اس کی بھی لسٹ فراہم کی جائے۔
جو قیدی دیعت کی رقم ادا نہیں کر سکتے آئی جی جیل ان کی لسٹ بھی فراہم کریں۔
وفاقی حکومت آئندہ سماعت پر بتائے کہ مزید کتنے لوگ بیرون ملک سے پاکستان آ سکتے ہیں۔
وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کی اس وبا سے بچنے کے لیے کیسے مدد کی ہے رپورٹ دی جائے۔
ڈیلی ویجر اور مزدوروں کو کیسے بچائیں گے اس کا بھی حکومت بتائے۔
لاہور ہائی کورٹ کا پانچ رکنی فل بنچ 27 مارچ کو اس اہم کیس کی سماعت کرے گا۔

Facebook Comments