March 25, 2020 at 10:40 pm

عمران عثمانی یادیں تازہ کرارہے ہیں

پاکستان دنیائے کرکٹ کا عالمی چیمپئن بن گیا
پاکستان کرکٹ کا نیا عالمی چیمپئن
کراچی سے خیبر تک جشن
پاکستان کرکٹ کا نیا حکمران بن گیا
‏The cup came to Pakistan.
‏We role the world .
26 مارچ 1992 کی صبح ملکی و بین الاقوامی میڈیا نے اس خوبصورت ٹائٹل گیت کا جواب یہ دیا
‏Pakistan rule the world.
کہ جس گیت کا بنیادی جملہ یہ تھا۔
‏Who rule the world?


پاکستان نے کرکٹ کا 5 واں تاریخ کا پہلا اور اب تک اتفاق سے اکلوتا ورلڈ کپ جیتا۔
25مارچ 2020 کو پوری دنیا میں کورونا رول کر رہا ہے ہر طرف سناٹا اور خاموشی ہے۔
کورونا کی حقیقت و دہشت سے دنیا کا کوئی بھی ملک محفوظ نہیں ہے۔
28 برس بعد آج کے دن ہر طرف رول کرتے کورونا سے بچائو اور اس کے علاج و توڑ کی کوششیں جاری ہیں۔
اتنے سنگین حالات میں بھی انٹر نیشنل کرکٹ کونسل،بین الاقوامی میڈیا کے اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ نے یہ دن یاد رکھا اور نئی جنریشن کو بتایا کہ 28 برس قبل کون کرکٹ کا حکمران بنا تھا۔
اتفاق سے تمام اسپورٹس ایونٹ بند ہیں تو موجودہ حالات میں انٹرنیشنل میڈیا کیلئےاس دن کی مناسبت سے اس سے بہتر سنہری یادیں ہو نہیں سکتی تھیں۔
اور تو اور کرکٹ کی معروف ترین ویب نے تو پہلے فائنل میچ ہونے کا نقشہ ایسے ہی کهینچا کہ جیسے صبح واقعی اصل فائنل ہونا ہے اور اس کے بعد اننگ بریک پر بھی معمول کی طرح آج کی رپورٹنگ کی پیش کی۔
یہیں بس نہیں کیا بلکہ ساتھ ساتھ اسکور کارڈ بھی پورے میچ کا چلایا۔
ورلڈ کپ 1992 اس لئے بھی خاص ہے کہ پہلی مرتبہ میگا ایونٹ کلر کٹس،سفید بال کے ساتھ فلڈ لائٹس میں کھیلا جارہا تھا اور اس لئے بھی کہ اس کا فارمیٹ پہلی مرتبہ گروپ اسٹیج سے تبدیل ہوکر رابن لیگ پر تھا۔
آج یہ ایونٹ اس لیے بھی تاریخ کا سنہری حصہ لگتا ہے کہ عمران خان،این بوتهم،کپیل دیو،میلکم مارشل جیسے صدی کے نامی گرامی آل رائونڈرز اور ایلن بارڈر جیسے بیٹسمین کا یہ آخری ورلڈ کپ تھا۔
اتنے بڑے آل رائونڈرز اس سے قبل بیک وقت میگا ایونٹ سے رخصت ہوئے اور نہ اس کے بعد اور اس کی ایک وجہ اور بھی ہے۔
انٹر نیشنل کرکٹ کونسل عمران خان کو صدی کا
بہترین کپتان مانتی ہے اور ساتھ میں بہترین آل رائونڈرز بھی مگر یہ بحث اپنی جگہ رہتی ہے کہ مقابل این بوتهم اور کپیل دیو کو کہاں فٹ کریں۔
اعدادوشمار کا جائزہ لیں تو عمران خان کو کئی حوالوں سے سبقت حاصل رہی اتفاق سے وہ اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم بھی ہیں۔
سوال ہوگا کہ وہ گزشتہ برس بھی تھے تو اس کا جواب یہ کہ گزشتہ سال اسپورٹس اور کرکٹ کو رپورٹ کرنے کو وہ کچھ بھی تھا جو آج نہیں ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی 25 مارچ 2020 کو ورلڈ چیمپئن کی 28 ویں سالگرہ پر خصوصی ویڈیو جاری کی۔
آئی سی سی نے فائنل کے خاص لمحات کی ویڈیو شیئر کی.وقت کے کپتان اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنے آفیشل پیج پر فتح کی یادیں تازہ کیں اور لکھا کہ پاکستان اس دن کرکٹ کا ورلڈ چیمپئن بنا تھا۔
ورلڈ کپ 1992 فائنل کے ہیرو اور ایونٹ کے 18 وکٹوں کے ساتھ ٹاپ وکٹ ٹیکر وسیم اکرم نے بھی نہیں بهولے۔
تاریخی میڈلز شیئر کئے اور کہا کہ آج ان کھلاڑیوں میں سے کوئی کمنٹیٹر ہے تو کوئی بڑا رہنما۔
ورلڈ کپ کے اختتامی لمحات میں اچانک ظاہر ہونے والے انضمام الحق کا تذکرہ بھی ضروری ہے. انہوں نے رائونڈ کے تمام 8 میچ کھیلے اور ناکام ریے لیکن سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کیخلاف ان کی 37 بالوں پر 60 رنز کی اننگ نے پاکستان کی فتح کو ممکن بنایا۔
انہوں نے درجنوں مرتبہ یادیں تازہ کیں اور کئی دلچسپ واقعات سنائے لیکن گزشتہ سال میری کتاب ورلڈ کپ کہانی کے چھٹے ایڈیشن کے دیباچہ کی تحریر کے موقع پر ایک نئی بات بتائی تھی۔
“عمران خان اگر کپتان نہ ہوتے تو میں آج والا انضمام نہ ہوتا کیونکہ انہوں نے میری مسلسل ناکامی پر سینئرز کی مخالفت کے باوجود مجھے کھلایا اور سیمی فائنل تو زبردستی بیماری کی حالت میں کھیلنے پر مجبور کردیا۔
ایسا لگتا ہے کہ جیسے عمران خان میری اننگ کو چشم تصور میں دیکھ چکے تھے۔
کمال کے لیڈر،بلا کے بااعتماد کپتان تھے میرے کیریئر کی بنیاد انہوں نے رکھی۔
انضمام الحق نے یہ بھی کہا کہ مجھ سمیت سب ہاته چھوڑ چکے تھے لیکن عمران خان آخر تک جیتنے کا یقین دلاتے تھے۔
اس وقت کے اوپنر، بعد کے کپتان اور آج کے کمنٹیٹر رمیز راجہ کا حصہ بھی خوب رہا۔
ایونٹ میں 2 سنچریاں کرنے والے رمیزراجە نے 25 مارچ 2020 کو ایک مرتبہ پھر یادیں تازہ کیں۔
رمیز راجہ نے اپنے آفیشل یو ٹیوب چینل پر کہا کہ
“28سال پہلے ہم آج ہی کے دن ورلڈ کپ جیتے تهے قوم نے دعائیں کیں ہم نے محنت کی اپ اینڈ ڈائون بھی آئے لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری۔
ہم نے 30مارخان ٹیموں کو ہرایا ہم جیتے اپنے لئے، آپ کیلئے،ملک کیلئے ایسا لگا کہ ہمارا کیریئر ہی تب شروع ہوا۔
پاکستان کو دنیا کے نقشے پر پھر سے ابهارا آج بھی ایک جنگ ہے کورونا کیخلاف، اس وقت بھی ہمارے کپتان عمران خان تھے اور آج بھی وہی کپتان ہیں۔
آپ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں، جو اسپرٹ آپ نے تب دکھائی تھی وہی آج دکھائیں۔
میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ عمران خان کو بیک کریں ہم مل کر اسی اسپرٹ سے یہ جنگ بھی جیت جائیں گے.”
رمیز راجہ کا کردار بھی اس فتح میں کمال تها بظاہر لو کیٹیگری کے پلیئر تھے مگر پاکستان کی فتح میں تاریخ انہیں اتفاقات سے بھی یاد رکھے گی۔
مثال کے طور پر پاکستان نے اپنی مہم 23 فروری 1992 کو اسی میلبورن کرکٹ گرائونڈ میں شروع کی جہاں پھر قریب ایک ماہ بعد اس نے فائنل کھیلا۔
ویسٹ انڈیز کیخلاف رمیزراجە نے پاکستان کی جانب سے ابتدائی اسکو ر کیا پھر سنچری بنائی مگر پاکستان ہار گیا۔
عمران خان کندھے کی تکلیف کی وجہ سے نہ کھیلے اور جاوید میاں داد نے کپتانی کی۔
میلبورن میں پاکستان کیلئے رنز کا آغاز کرنے والے رمیز راجہ کے ہاتهوں اسی میدان میں پاکستان کی فتح رقم ہوئی۔
جب فائنل میں انگلینڈ کے النگورتھ نے عمران خان کی گیند پر اونچا شاٹ کھیلا تو وہ رمیز کے ہاتهوں محفوظ ہوگیا۔
ورلڈ کپ 92 میں 437 رنز بنانے والے جاوید میاں داد نیوزی لینڈ کے آنجہانی مارٹن کرو کے 456 کے بعد دوسرے ٹاپ اسکور ر تھے۔
انکا حصہ سیمی فائنل و فائنل سمیت اہم میچوں میں رہا 18 وکٹیں لے کر ٹاپ کرنے والے وسیم اکرم اس وقت تمام بائولرز سے آگے رہے۔
پاکستان رائونڈ کے آغاز میں ویسٹ انڈیز، بھارت اور جنوبی افریقا سے ہارگیا تھا۔
زمبابوے سے فتح اور انگلینڈ سے بارش کی وجہ سے ملنے والے ایک پوائنٹ کی مدد سے 5 میچز کے بعد 3 پوائنٹس لئے ٹیبل پر زمبابوے سے اوپر 8ویں نمبر پر تھا۔
پھر اس نے سر ی لنکا،آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو شکست دی۔
آسٹریلیا کی ویسٹ انڈیز کیخلاف جیت کے بعد اس کی سیمی فائنل میں رسائی ممکن ہو پائی تھی۔
سیمی فائنل میں ایونٹ کی ٹاپ ٹیبل ٹیم نیوزی لینڈ کو 4 وکٹوں اور فائنل میں دوسری ٹاپ ٹیم انگلینڈ کو 22 رنز سے شکست دی تھی۔

Facebook Comments