March 19, 2020 at 6:24 pm

کورونا کی آگاہی اور اس سے بچنے کے لیے تمام پیش بندیاں درست مگر حیرت کی بات ہے کہ کرونا کے لاف فرنٹ لائن ڈیوٹی ڈاکٹرز اور طبی عملہ دے رہاہے، پاکستان کے دارالخلافہ کے سب سے بڑے اسپتال پمز کا طبی عملہ اس صورت حال میں شدید اضطراب کا شکار ہے۔
پمز آل ایمپلائز ایسوسی ایشن کے ترجمان، ڈاکٹر اسفند یارنے کہا ہے کہ ب غیر اسلحے کے جنگ نہیں لڑی جاتی بغیر اسلحہ کے خود کشی تصور ہوتی ہے۔ حکومت ابھی تک صرف ماسک تک فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔پورے پاکستان میں ڈاکٹر رو رہے ہیں آپ کو سب اچھا کی رپورٹ دی جا رہی ہے۔پمز میں روزانہ دس ہزار مریض آتے ہیں اگر ایک بھی پازیٹو مریض آیا تو پورے عملہ کی صحت داو پر لگ جائے گی ۔ہمیں اوپی ڈی بند کرنے کا شوق نہیں لیکن حکومت ہمیں ماسک تو فراہم کرے۔ہم ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہمیں تنخواہ بھی نہیں چاہیے ہمیں کٹ فراہم کی جائے۔پیر تک تمام سٹاف کو کٹ فراہم کریں۔وفاقی دارالحکومت کے تمام ہسپتالوں میں کٹ فراہم کریں۔ اگر حکومت ناکام ہے تو مخیر حضرات سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یہ کٹ فراہم کرنے میں مدد فراہم کریں۔۔اگر حکومت نہیں سوچتی تو ہم منگل کے دن سے او پی ڈی بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔آئیسولیشن وارڈز ہسپتالوں میں نہیں بنائے جاتے اس لئیے آئسولیشن وارڈباہر منتقل کئے جائیں

Facebook Comments