March 23, 2020 at 11:06 pm

صحافی ہارون رشید طور کا نقطہ نظر
کورونا نے ڈرایہ تو گھر یاد آیا،شادی شدہ افراد کو اپنی بیویاں اچھی لگنے لگیں۔
کورونا کی آمد کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پیغام اپنی بیویوں سے اچھا سلوک کریں ہوٹل بند ہیں۔
اسی طرح کے مختلف پیغامات میں شادی شدہ مرد حضرات کو گھروں میں رہنے کی تلقین کی جارہی ہے۔

بیوی سے تعلقات استوار کرنے کےبارے میں مختلف مشورے اور ٹوٹکے بتائے جارہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ گھر میں پرسکون اور باعزت زندگی کے مزے لینے کیلئے خوامخو اہ کے مذاح نگار بننے سے بھی منع کیا جارہا ہے۔
مثلا گھروں پر ہی تشریف رکھیں چاہے بیگم سے بنے یا نہ بنے ، دل کرے یا نہ کرے ، بیگم سے شوخی کرنے سے گریز کیجئے کیوں کہ آپ پہلے ہی ڈینجر زون میں ہیں۔
جس اللہ نے ہماری شادی کروائی ہے وہی حفٖاظت بھی کرے گا۔
اب تو ویسے بھی حکومت نے ملک میں فوج طلب کر لی ہے۔
پولیس کا گشت گلیوں بازاروں میں جاری ہے اس لیے کہا جارہا ہے کہ باہر سڑک پر مرغا بننے سے بہتر ہے اپنی مرغی اور چوزوں کے ساتھ وقت گزاریں اور بیوی کی تھانیداری کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں۔
جیسے کہ ایک بیوی کے باغی نے کورونا کے خوف محبوبہ سے تعلق توڑ کر اپنی بیوی سے تعلق استوار کرلیااور محبوبہ کی سلطنت کو الوداع کہہ کر بیگم کی راجدھانی میں پناہ لینے میں ہی آفیت جانی ہے۔
دنیا کے ایک سو بانوے ممالک میں پنجے گاڑھے کھڑے کوروونا وائرس نے بنی نوح انسان کوفطرت کی طرف موڑ دیا ہے۔
وہ انسان جو خود کو فطرت سے اتنا دور لے گیا تھا کہ انسانی رشتوں سے ہی لاتعلق ہوگیا تھا۔
مرد اپنے حلال رشتے ٹھکرا کر حرام خوری میں لذت تلاش کررہا تھا۔
عورتیں میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگا کر خود کو مرد سے اعلی ثابت کرنا چارہی ہیں۔
قانون قدرت کو ٹھکرا کر مذہب میں ملنے عزت کوکم تر جان جان کر خود اپنا قانون بنانے کے در پے ہو گئیں ہیں۔
ان کیلئے قدرت نے وارننگ دی ہے کہ تم کہیں بھی جاو، قانون قدرت کی حدود سے باہر نہیں جاسکتے۔
مرد اور عورت کو اللہ نے جو نکاح کے رشتے میں پاکیزہ پناہ دی ہے وہ اس سے بہتر پناہ کہیں نہیں حاصل کرسکتے۔
یہود و نصارہ کی اللہ سے بغاوت آج ان کے ہی گلے پڑ چکی ہے روزانہ بڑھتی ہلاکتیں اور انسان کی بے بسی وشگاف الفاظ میں بتا رہی ہے۔
کوئی تو ہے جو نطام ہستی چلارہا ہے
وہی خدا ہے بس وہی خدا ہے
انسان نے جب بھی فطرت سے بغاوت کی تو شکست کا ہی سامنا کرنا پڑا۔
دنیا نے سائنس میں ترقی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا تو فطرت نے ہر اس مقام پر اسے یاد دلایا کہ تجھےمیری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔
فیکٹریوں کی چمنیوں سے نکلتے زہر آلود دھویں نے فضا کو اتنا پراگندہ کردیا کہ آسمان بھی اپنا اصل رنگ ڈھوندے لگا۔
جنگلوں میں بسنے والے چرند اور پرند دم گھٹنے سے مرنے لگے۔
شفاف ندی نالوں میں بسنے والی آبی حیات یا تو مر گئی یا کوچ کر گئی۔
آبادیوں کے درمیان سے گزرنے والے ندیوں کے صاف پانی میں ملتے انسانی فضلے کی بدبو نے انسان کا جینا حرام کردیا لیکن آج کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا میں ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے چین میں آسمان اہنے اصلی رنگ میں دیکھا گیا۔
وینس کے گدلی ندیوں کاہانی صاف ہوا تو مچھلیاں اور آبی پرندے واپس لوٹنے لگے، اب یہ کب تک چلےگا اللہ ہی جانتا ہے۔

Facebook Comments