March 24, 2020 at 12:26 pm

افغان حکومت کی جانب سے طالبان معاہدہ پر عملدرآمد میں ناکامی پر امریکا نے افغانستان کی امداد میں کمی کردی ہے۔
افغانستان کے صدر اشرف غنی اور خودساختہ صدر کہلوانے والے عبداللہ عبداللہ کے درمیان اختلافات کی وجہ سے افغانستان کی مشکلات میں اضافہ ہو چکا ہے۔
امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے افغانستان کے لیے امریکی امداد میں فوری طور پر ایک ارب ڈالر کی کمی کا اعلان کر دیاہے۔
مائیک پومپیو نے افغانستان کا ایک روزہ دورہ مکمل کر کے قطر پہنچے۔
انہوں نے دوحہ میں طالبان رہنما ملا برادر سے اہم ملاقات کی۔
اس دوران طالبان رہنماسے امن معاہدے پر تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ افغان حریف رہنماؤں کے درمیان نئی حکومت کی تشکیل میں ناکامی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
قطر میں ملاقات کے بعد امریکی وزارت خارجہ کا بیان سامنے آیا جس میں افغانستان کے لیے امریکی امداد میں ایک ارب ڈالر کی کمی کر دی ۔
اس سے قبل دورہ کابل میں افغان صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان اختلافات دور کرنے میں ناکام رہے۔
دونوں رہنماؤں سے پہلے انہوں علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور پھر دونوں کے ساتھ بیٹھے لیکن سیاسی حریفوں کو ایک پیج پر لانے میں ناکام رہے۔
سیاسی اختلافات کی وجہ سے طالبان امریکا معاہدہ بھی خطرے میں پڑگیا ہے۔
یاد رہے ستمبر 2019 کے صدارتی انتخاب کا پانچ ماہ بعد اعلان کیا گیا جس کے تحت ڈاکٹر اشرف غنی ملک کے صدر بنے لیکن عبداللہ عبداللہ نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور خود کو صدر قرار دیا۔
اس صورت حال میں دوحہ مذاکرات پر بھی سیاہ بادل منڈلانے لگے ہیں، یہی وجہ ہے کہ امریکا نے افغان حکومت اور سیاسی رہنماؤں کو خبردار کیا ہے کہ اگر صورت حال یہی رہی تو پھر افغانستان میں امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

Facebook Comments