March 24, 2020 at 6:45 pm

امین وارثی +عامر حسینی و نمائندگان

خانیوال ضلع میں کورونا وایرس سے بچاؤ کے لیے جاری لاک ڈاؤن کو تیسرا روز ہے اور پورے ضلع میں کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہونے کے سبب ہزاروں دیہاڑی دار مزدور اور غریبوں کے گھروں میں فاقے ہونے لگے،

جبکہ غریبوں کے گھر راشن ختم ہوگیا- ہمارے نمائندے کی اطلاع کے مطابق خانیوال شہر کے یوٹیلیٹی اسٹورز پر آٹے کے بیگ نایاب ہوگئے اور عام دکانوں پر بھی آٹے کی قلت کی شکایات موصول ہوئیں، سردار پور یونین کونسل کے مکینوں نے بتایا کہ 15 روز سے یوٹیلیٹی اسٹورز پر آٹا دستیاب نہیں ہے

جبکہ عام دکانوں پر بھی آٹا قلت کا شکار ہے- کچاکھوہ سے مقامی زرایع کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹور پر 60 بیگ فراہم کیے گئے جو 15 منٹ میں فروخت ہوگئے- ریجنل مینجر یوٹیلیٹی اسٹور کارپوریشن کا کہنا ہے کہ آٹے کی فراہمی چند دن میں بہتر ہوجائے گی-

آٹے کی کمی کے حوالے سے اسٹنٹ کمشنر خانیوال شبیر ڈوگر، ڈی سی خانیوال کے سرکاری نمبرز اور موبائل نمبرز پر رابطہ کیا گیا اور میسج بھی کیا گیا لیکن جواب نہیں ملا- انفارمیشن افسر خانیوال سلمان خالد سے رابطہ ہوا تو اُن کا کہنا تھا کہ فی الحال ضلعی حکومت کے پاس ایسا کوئی فنڈ نہیں ہے

جس سے دیہاڑی دار مزدوروں کو کوئی مالی مدد دی جاسکے جبکہ غریب گھروں کو راشن کی فراہمی کے لیے فنڈ کا قیام مخیر حضرات نے ایم پی اے نشاط ڈاہا کی تجویز پر کیا جس بارے وہی بتاسکتے ہیں-

ایم پی اے نشاط احمد خان ڈاہا نے رابطہ ہونے پر بتایا کہ انہوں نے ضلعی حکومت کو غریبوں کی بہتری کے لیے مخیر حضرات سے تعاون سے ایک کروڑ کا فنڈ قائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے پچاس لاکھ ابتدا میں جمع کرنے میں مدد دی تھی،

اور چھے رکنی ٹیم بنائی تھی جس میں تین رکن ڈی سی آفس سے اور تین مخیر حضرات میں سے تھے جس نے کام شروع کرنا تھا، اب کل اجلاس بلالیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے-

خانیوال ضلع میں فوڈ انڈسٹری کو چھوڑ کر ہر قسم کی انڈسٹری اور کاروباری ادارے بند ہیں جن میں کام کرنے والے ہزاروں دیہاڑی دار مزدور بے کار ہوکر بیٹھے ہیں، خانیوال ضلع میں ہزاروں چھوٹے بڑے کھانے کے ہوٹل اور فاسٹ فوڈ کی دکانوں پر کام کرنے والے دیہاڑی دار مزدور بے روزگار ہووکر گھر بیٹھے ہیں اور تاحال حکومت کی طرف سے ایسے دیہاڑی دار مزدوروں کا ڈیٹا بھی اکٹھا نہیں کیا جاسکا ہے- خدشہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران اگر مالی امداد اور راشن کا میکنزم نہ بن سکا تو بحران انتہائی شدید ہوجانے کا خطرہ ہے –

Facebook Comments