March 22, 2020 at 1:42 pm

مترجم: عامرحسینی

بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو لاہور سازش کیس میں برطانوی ہندوستان کی نوآبادیاتی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تھی- 23 مارچ 1931 کو صبح کے ساڑھے سات بجے بھگت سنگھ اور ان کے دو ساتھی راج گرو، سکھدیو سنگھ کو لاہور سنٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی-

بھگت سنگھ کا جنم 1907ء میں متوسط طبقے کے کسان خاندان میں ہوا تھا- جڑانوالہ تحصیل تھی اور ضلع تھا لائلپور- چک تھا 105 گ ب بانگاں گاؤں- بھگت سنگھ کے والد کا نام کشن سنگھ اور والدہ کا نام ودیاوتی تھا- بھگت سنگھ کا خاندان ضلع لائلپور کی تشکیل اور اس کے اردگرد دریاؤں سے نہریں نکالے جانے اور نئی کالونیاں بنانے کے منصوبے کے نتیجے میں بننے والی چناب کالونی لائلپور میں چک 105 گ ب بانگاں گاؤں میں مشرقی پنجاب کے ضلع امرتسر سے آکر آباد ہوا تھا- مذہبی اعتبار سے خاندان سکھ مت کا پیرو تھا- جبکہ سیاسی طور پر بھگت سنگھ کے دادا ارجن سنگھ، والد کشن سنگھ اور چاچا اجیت سنگھ نیشنلسٹ تھے اور اپنے علاقے کے متوسط اور غریب کسانوں کی تحریکوں کے سرگرم کارکن تھے- بھگت سنگھ نے بھی اپنا بچپن اور لڑکپن مذہبی طور پر سکھ مت اور سیاسی طور پر نیشنلسٹ خیالات کے زیر اثر گزارا-

بھگت سنگھ ریڈر جواہر لال یونیورسٹی سے ریٹائرڈ پروفیسر چمن لال کا مرتب کردہ ہے- وہ بھگت سنگھ آرکائیو و ریسورس سنٹر دہلی ہندوستان کے اعزازی مشیر بھی ہیں- بھگت سنگھ ریڈر کا پہلا حصّہ بھگت سنگھ کے ابتک دستیاب ہونے والے خطوط کے اصلی متن یا نقل یا تراجم کو لیکر ان کی انگریزی شکل پر مشتمل ہے جو 59 کے قریب بنتے ہیں-

ان خطوط میں سب سے پہلے بھگت سنگھ کے اسکول کے زمانے میں لکھے گئے خطوط کا انگریزی ترجمہ ہے- چمن لال کے مطابق بھگت سنگھ کا جو سب سے پہلا خط دستیاب ہوا وہ اس وقت لکھا گیا جب بھگت سنگھ چھٹی کلاس کا طالب علم تھا – بھگت سنگھ نے پرائمری تک تعلیم اپنی جنم بھومی چک 105 گ ب بانگاں تحصیل جڑانوالہ میں حاصل کی- اور پھے اس نے چھٹی کلاس میں لاہور میں قائم دیانند اینگلو ویدک اسکول/ڈی اے وی اسکول میں داخلہ لے لیا- اور وہاں اس نے اپنے والد کے ساتھ قیام کیا- اس نے اپنا پہلا خط اردو زبان میں اپنے دادا ارجن سنگھ کے نام لکھا جو اس وقت امرتسر کے قریب اپنے گاؤں کھٹکار کالاں میں مقیم تھے- دوسرا خط بھی انہوں نے اپنے دادا ارجن سنگھ کے نام لکھا اور تیسرا خط بھی- جبکہ اسکول کے زمانے کے دو خط بھگت سنگھ نے اپنی چاچی حکم کور کے نام لکھے-

بھگت سنگھ کے اسکول کے زمانے میں لکھے گئے خطوط میں سے پانچ خطوط جو دستیاب ہیں، ان میں تین اس کے دادا ارجن سنگھ کے نام ہیں اور دو اس کی چاچی جی کے نام ہیں- اور یہ 1918ء سے 1921ء کے درمیان لکھے گئے خطوط ہیں- دادا جی کے نام لکھے گئے خطوط اردو میں اور حکم کور چاچی جی کے نام لکھے گئے خطوط پنجابی اور رسم الخط گورمکھی ہے- ان خطوط میں سے ایک خط میں پتا چلتا ہےلائلپور میں کسان تحریک کے اجلاس میں اس نے والد کے ساتھ شرکت کا زکر کیا تو ایک اور خط میں اس نے ریلوے ورکز کی ہڑتال کا زکر بھی کیا- اس سے پتا چلتا ہے کہ 14 سال کی عمر میں ہی بھگت سنگھ کا سیاسی شعور بڑھوتری کی طرف جارہا تھا-

لاہور،22 جولائی 1918

پیارے دادا جی،
نمستے۔

مجھے آپ کا خط مل گیا تھا- پڑھ کر خوشی ہوئی- امتحانات کے بارے میں پہلے آپ کو نہ بتانے کی وجہ یہ تھی کہ ہمیں پہلے بتایا ہی نہیں گیا تھا- پھر ہمیں انگریجی اور سنسکرت کے پرچوں کے بارے میں بتادیا گیا تھا- میں نے ان کا امتحان پاس کرلیا ہے- سنسکرت میں،میرے 150 میں سے 110 نمبر حاصل کیے جبکہ انگریجی میں 150 میں سے 68 نمبر حاصل کیے ہیں- جبکہ پاس ہونے کے لیے کم از کم نمبر 50 تھے- تو 68 نمبر لیکر میں آسانی سے پاس ہوگیا ہوں- براہ مہربانی،پریشان بالکل مت ہوں۔ باقی(مضامین کے امتحانات) کے بارے میں ہمیں کچھ بتایا نہیں گیا ہے، اور چھٹیوں کی جہاں تک بات ہے تو 8 اگست کو پہلی چھٹی ہوگی- براہ کرم مجھے بتائیے گا جب آپ کا یہاں لاہور کا چکر لگے تو-

آپ کا فرمانبردار،
بھگت سنگھ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوم

لاہور،27 جولائی،1919

پیارے دادا جی،

نمستے!
میں یہاں خیریت سے ہوں- آپ کی اور شری نارائن جی(ہندؤ دیوتا) سے آپ کی صحت کے لیے پرارتھنا کرتا ہوں- مزید خبر یہ ہے کہ ہمارے ششماہی امتحانات ہوچکے ہیں، جو جولائی میں شروع ہوئے تھے- بہت سے طالب علم ریاضی کے پرچے میں فیل ہوگئے، تو ہمیں اگست میں ریاضی کا پرچہ پھر دینا ہوگا- باقی سب اچھا ہے- آپ نے کب آنا ہے؟ بھیا جی کو بتادیں کہ میں نے ششماہی امتحانات میں سب مضامین کے پرچے پاس کرلیے ہیں- ماتا جی اور چاچا جی کو نمستے- کولتار سنگھ کو 24 جولائی کی رات کو بخار ہوا جو 25 جولائی کی رات تک رہا- اب وہ چنگا بھلا ہے؛ چنتا کرنے کی جرا بھی جرورت نہیں ہے-
آپ کا فرمانبردار
بھگت سنگھ

لاہور،14 نومبر1921
میرے پیارے دادا صاحب جی،
نمستے!

یہاں سب اچھا ہے اور میں بھگوان سے آپ کی صحت کی پرارتھنا کرتا ہوں- مجھے بڑی دیر سے آپ کا محبت بھرا خط نہیں ملا- کیا وجہ ہے؟ مجھے جاننا ہے کہ کلبیر سنگھ اور کولتار سنگھ کی کارکردگی کیسی ہے؟ بے بے صاحبہ ابھی میاںوالی سے لوٹی نہیں ہیں- باقی سب خیر ہے-

ماتا جی کو نمستے- چاچی صاحبہ کو نمستے- منگو چمار ابھی تک نہیں لوٹ کر نہیں آیا- میں انتہائی مناسب قیمت پر ایک سیکنڈ ہینڈ کتاب خرید لی تھی-
ریلوے کے لوگ ان دنوں ہڑتال پر جانے کا پروگرام بنارہے ہیں- امکان ہے کہ یہ ہڑتال اکلے ہفتے سے فوری شروع ہوگی-

آپ کا فرمانبردار
بھگت سنگھ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور،اکتوبر
اوم کار۔۔۔۔

میری پیاری چاچی جی،
نمستے!

میں اجلاس میں شرکت کے لیے لائلپور گیا تھا- میں نے گاؤں آنے کا پروگرام بھی بنایا تھا لیکن باپو جی نے مجھے ایسا کرنے سے منع کردیا تو میں نہیں آیا- براہ کرم مجھے اس غلطی پر معاف کردینا- چاچا جی کی پوٹریٹ قریب قریب تیار ہے،میں نے اس کو ساتھ لانے کا سوچا تھا،لیکن یہ اس وقت مکمل نہ ہوسکی تو مہربانی کرکے مجھے معاف کردینا- مجھے جلدی واپس جواب لکھنا- بڑی چاچی جی اور ماتا جی کو میرا پرنام پہنچادیں اور کلبیر و کولتار کو میرا نمستے-

آپ کا بیٹا
بھگت سنگھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نومبر 1923
میری سب سے پیاری چاچی جی،
نمستے!

مجھے خط لکھنے میں دیری ہوگئی- اس پر معذرت خواہ ہوں- بھائیا جی دہلی چلے گئے ہیں- بے بے موراں والی چلی گئی ہیں- باقی سب خیر ہے- بڑے چاچی کو میرے پرنام پہنچادیں- اور ست سری اکال- نمستے! کلبیر اور کولتار سنگھ کو-

آپ کا فرمانبردار،
بھگت سنگھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Facebook Comments