March 10, 2020 at 9:44 am

ایتھوپیا میں بسنے والا مورسی قبیلہ لڑائی اور قتل و غارت کے علاوہ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔
قبیلہ ایک ہزار سے زائد لوگوں پر مشتمل ہے جو صدیوں پرانی اپنی خاص پہچان برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
قبیلے کی خواتین جدید ہتھیار چلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اے کے 47 جیسی جدید کلاشن کوف سے لیس قبیلے کی خواتین کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
مورسی قبیلے کی خواتین اپنے بڑے ہونٹوں کی وجہ سے اپنی منفرد پہچان برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیے: https://bit.ly/2Q1h21Aقدیم قبائل آج بھی بےلباس لیکن ٹھرکیوں سے دور

خواتین کا نچلا ہونٹ چار انچ تک لمبا ہوتا ہے جس میں ایک خاص قسم کی لکڑی کی پلیٹ ڈالی جاتی ہے جو خوبصورتی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

چھوٹی عمر میں ہی لڑکیوں کے نچلے ہونٹ کو تیز دھار آلے کی مدد سے چھیدا جاتا ہے اور اس میں لکڑی کا چھوٹا سا ٹکڑا ڈال دیا جاتا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ لکڑی کے ٹکڑے کا سائز بڑھایا جاتا ہے۔
وقت کے ساتھ ٹکڑے کی جگہ لکڑی کی پلیٹ لے لیتی ہے۔

یہ لکڑی کی پلیٹ خواتین کے نچلے ہونٹ میں نصب کی جاتی ہے۔
اس پلیٹ کی گولائی سات انچ تک ہوسکتی ہے۔
زیادہ سے زیادہ بڑی بلیٹ ہونٹوں میں ڈالنا خوبصورتی کی علامت میں شمار ہوتا ہے۔
خواتین ہونٹوں کے ساتھ ساتھ اپنے جسم پر بھی زخم لگا کر خاص ڈیزائن بنواتی ہیں جو خوبصورتی کے ساتھ ساتھ قبیلے میں ان کا مرتبہ بلند کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے: https://bit.ly/39EJPAXایمازون کے تحفظ کے لیے قبائلی خواتین سامنے آگئیں

جسم پر یہ ڈیزائن ایک خاص بلیڈ سے بنائے جاتے ہیں۔ خواتین جسم پر چھوٹے چھوٹے کٹ لگاتی ہیں۔ ان زخموں کے نشان ساری عمر کے لیے ان کے جسموں پر نقش ہوجاتے ہیں۔
مورسی قبیلے کی زیادہ تر خواتین آج بھی بے لباس ہیں۔ خواتین اپنے جسم پر نقش خوبصورت نقش ونگار کو دیکھانے کے لیے اور اپنی روایت پر عمل کرتے ہوئے کپڑے نہیں پہنتی۔
قبیلے کی خواتین اپنی خوبصورتی کا خاص خیال رکھتی ہیں اسی لیے خواتین سر پر سیپیوں سے بنا ہوا تاج پہنتی ہیں۔
خانہ داری، بچوں کی پرورش اور شکار کے ساتھ ساتھ خواتین قبیلے کی خفاظت میں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مورسی قبیلے کی خواتین ہر وقت اسلحہ سے لیس رہتی ہیں۔

Facebook Comments